Sports and news


دنیا کے سات جدید عجوبے

اس دنیا میں انسانی ہاتھوں سے بنے ہزاروں ایسے عجوبے ہیں جنہیں انسانی تاریخ کا  شاہکار  مانا جاتا ہے۔ ان کو بنانے میں نا صرف ہزاروں افراد نے شرکت کی بلکہ ان کی تعمیر میں کافی سرمایہ صرف ہوا۔ ان کو بنانے میں کافی عرصے تک کام جاری رہا۔ آج ہم آپ کو ان میں سے چند ایک کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔

 1The Great Wall Of China

1-عظیم دیوارِ چین 

زمانہ قبل از مسیح میں چین کی آبادی چھوٹی چھوٹی راياستوں میں تقسیم ہوئی تھی۔ان ریاستوں نے اپنی حفاظت کیلئے اپنے ارد گرد دیوار بنانی شروع کر دی۔کہا جاتا ہے کہ 206 قبل از مسیح میں  کن شی ہوانگ{Qin Shi Huang} نے اس کی بنیاد رکھی۔ 


2012کے سروے کے مطابق اس دیوار کی لمبائی 21,196 کلومیٹر ہےجو کہ کئی دیواروں کا مجموعہ ہے۔کہا جاتاہے کہ چاند سے بھی اسے دیکھا جا سکتاہے مگر اس میں کوئی صداقت نہیں.اس دیوار میں مختلف مقامات پر واچ ٹاور بنائے گئےہیں۔ جن کی تعداد تقریباً 25,000 ہے.ان واچ ٹاور کا درمیانی فاصلہ مختلف مقامات پر مختلف ہے۔ ان کا ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ 3میل ہے۔

دفاعی اعتبار سے اس کا کوئی سانی نہیں ہے مگر منگولوں 1234میں چِن خاندان کو چنگیز خان نے اقتدار سے محروم کر کے چین منگول سلطنت کی بنیاد رکھی۔1368میں مِنگ خاندان نے منگولوں کو شکست دیکر دوبارہ چینی حکومت قائم کی۔

2-Petra Jorden (Rose City) 

2-پیٹرا جورڈن (روز سٹی)

اردن کے شہر پیٹرا کا شمار دنیا کے مشہور عجائبات میں ہوتا ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال کی بتائی جاتی ہے جو کہ صدیوں پہلے زمین بوس ہو چکے تھے.اس کی دریافت 1812 میں ایک سوِس ماہرِ قدیمہ نے کی تھی.
اردن کے جنوب مشرقی کونے میں ناہموار صحرائی وادیوں اور پہاڑوں کے درمیان واقع پیٹرا کبھی ترقی پزیر تجارتی مرکز اور 400 قبل مسیح کے درمیان نباطی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔

پیٹرا کی عمارات بہت دلکش اور فنون لطیفہ کی ایک عظیم مثال ہے.اس کی عمارات سرخ ، سفید ، گلابی اور ریت کے پتھر کی چٹانوں کےبنی ہوئی ہیں. ان عمارتوں میں سے 800 عمارتیں ایسی ہیں جن پر بہت ہی عمدہ نقش و نگار کیے گئے ہیں. یہاں پر ایک تھیٹر بھی ہے جس میں پانچ سے آٹھ ہزار لوگ بیٹھ سکتے ہیں. یہاں کے کھنڈرات کا شمار دنیا کی سب سے مشہور آثار قدیمہ میں ہوتا ہے.اس شہر میں گاڑیاں لے جانا منع ہے, صرف اونٹ اور کھچر ہی لے جا سکتے ہیں.اس شہر میں دنیا سے ہر سال تقریباً پانچ ہزار سیاح آتے ہیں.اب تک پیٹرا کا صرف پندرہ فیصد حصہ ہی دریافت ہوا ہے باقی پچاسی فیصد حصہ ابھی زمین کے اندر دفن ہے.

3- The Colosseum

3-کالوسیم

کالوسیم روم ایک عظیم قدیمی تماشہ گاہ ہے۔یہ پیلیٹائن ہل کے بالکل مشرق میں واقع ہے۔دو ہزار سال پُرانی یہ عمارت فنِ تعمیر کا شاہکار اور ظلم و بر بریت کی خوفناک داستان ہے ۔اس کی تعمیر ویسپاسین کے دور میں 70 اور 72 عیسوی کے درمیان شروع ہوئی تھی۔اس کا افتتاح رومی شہنشاہ ٹائی ٹس نے کیا۔ ابتدئی دور میں اسے تفریح مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔ تفریح کا مقصد انسانوں کے ہاتھوں جانوروں کا یا پھر انسانوں کا قتل کرنا تھا۔ اس تفریح کے نتیجے میں لاکھوں جانور اور ہزاروں انسان اپنی ذندگی ہار گئے۔اس تماشہ گاہ میں ہونے والے کھیل اکثر سارا دن جاری رہتے تھے۔ ان کھیلوں میں ذیادہ تر موت ایک اہم کردار ہوا کرتی تھی۔ 


اس تھیٹر کی تعمیر بھی ایک نادر نمونہ ہے۔ قدیم دور میں تعمیر کی گئی گول شکل کی یہ تماشہ گاہ مکمل کرنے میں تقریباً دس سال کا عرصہ لگا۔اس بلندی اڑتالیس میٹر لمبائی ایک سو اٹھاسی میٹر اور چوڑائی ایک سو چھپن میٹر تھی۔ دنیا بھر کے لاکھوں سیاح اب بھی اس کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔

4 Chichen Itza

4 ۔چیچن اتزا

چیچن اتزا ، میکسیکو کی جنوبی وسطی ریاست یوکاٹن میں 4 مربع میل (10 مربع کلومیٹر) کے رقبے پر محیط قدیم مایاسٹی تھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک مذہبی ، عسکری ، سیاسی اور تجارتی مرکز تھا جو کہ اپنے عروج پر 35،000 افراد کا گھر ہوتا تھا۔چیچن اتزا جدید شہر مریڈا سے 90 میل (150 کلومیٹر) مشرق شمال مشرق میں 75 میل (120 کلومیٹر) مشرق جنوب مشرق میں واقع ہے۔ سائٹ کے ارد گرد بنجر علاقے میں پانی کا واحد ذریعہ کنویں ہیں۔


چیچن اتزا کو 1988 میں یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا۔چیچن کی بنیاد 6 ویں صدی عیسوی کے بارے میں رکھی گئی تھی ، ممکنہ طور پر یوکاٹن جزیرہ نما کے مایا لوگوں نے جنہوں نے پری کلاسک ، یا ابتدائی دور (1500 BCE-300 CE) کے بعد سے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا۔10 ویں صدی میں ، جنوبی نشیبی علاقوں کے مایا شہروں کے خاتمے کے بعد ، چیچن پر غیر ملکیوں نے حملہ کیا۔یہ حملہ آور شاید Itzá تھے جن کے لیے اس سائٹ کا نام رکھا گیا ہے۔ تاہم ، کچھ حکام کا خیال ہے کہ اسے 200 سے 300سال بعد اس کا نام اتزا رکھا گیا۔

5-Machu Picchu

5-ماچو پیچو 

ماچو پچو سمندر کی سطح سے 2،430 میٹر اوپر ، ایک پہاڑی جنگل کے وسط میں ، ایک غیر معمولی خوبصورت ماحول میں واقع ایک لازوال عجوبہ ہے۔ یہ شاید اپنے عروج پر ان کی سلطنت کا سب سے حیرت انگیز شہری تخلیق تھی۔ اس کی دیواریں ، چھتیں اور ریمپ ایسے لگتے ہیں جیسے وہ قدرتی طور پر مسلسل چٹانوں کے ٹکڑوں میں کاٹے گئے ہوں۔یہ ایمازون کے بالائی حصے کو گھیرے ہوئے ہے جس میں نباتات اور حیوانات کی بھرپور تنوع ہے۔

ماچو پیچو شاندار ثقافتی اور قدرتی اقدار کے لیے پہچانی گئی ، مخلوط عالمی ثقافتی ورثہ 32،592 ہیکٹر پہاڑی ڈھلوانوں ، چوٹیوں اور وادیوں پر محیط ہے ، "لا سیودادیلہ" (قلعہ) کی شاندار آثار قدیمہ سطح سمندر سے 2،400 میٹر سے زیادہ پر واقع ہے۔


ماچو پیچو شاندار مذہبی ، رسمی ، فلکیاتی اور زرعی مرکز کو بنانے والے تقریبا 200 ڈھانچے پتھر کی چھتوں سے جڑے ہوئے کھڑی کنارے پر قائم ہیں۔آج تک ، ماچو پچو کے بہت سے اسرار حل نہیں ہوئے ہیں ، بشمول اس کی فلکیات اور جنگلی پودوں کی نسلوں کی نفسیاتی تفہیم میں اس نے کیا کردار ادا کیا ہے۔1911سے پہلے دنیا اس خوبصورت عجوبے انجان تھی مگر اب ساری دنیا سے لاکھوں سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔

6-Taj Mehal

6-تاج محل


مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ ممتاز کی یاد میں ان کی وفات کے بعد تعمیر کروایا۔ یہ بھارت کے شہر آگرہ میں واقع ہے۔ عمارت کا آغاز تقریباً 1632 میں ہوا تھا۔ 20،000 سے زیادہ مزدور ہندوستان ، فارس ، سلطنت عثمانیہ اور یورپ سے کام کر رہے تھے۔ ملحقہ عمارتیں 1643 تک مکمل ہو چکی تھیں اور سجاوٹ کا کام کم از کم 1647 تک جاری رہا۔ مجموعی طور پر 42 ایکڑ (17 ہیکٹر) کمپلیکس کی تعمیر 22 سال پر محیط تھی۔


اس محل کی تعمیر استاد احمد لاہوری نے کی۔کہا جاتاہے کہ تعمیر کے مکمل ہونے کے بعد شاہ جہاں نے ان کے ہاتھ کٹوا دے تھے تاکہ کوئی اور ایسی عمارت نا بنا سکے۔اس کی تعمیر میں بائیس سال کا عرصہ لگا۔تمام عمارت سنگِ مرمر کی ہے۔اس لمبائی اور چوڑائی 130فٹ اور بلندی 200 فٹ ہے۔اس میں شاہ جہاں اور ملکہ ممتاز کی قبریں ہیں۔

7- Christ The Redeemer


7-مسیح کا مجسمہ

یہ مجسمہ برازیل میں واقع ہے۔اس مجسمہ کو پہاڑی کی ایک چوٹی پر نصب کیا گیا جس کی بلندی 2300 فٹ ہے۔ اس مجسمہ کی اونچائی 130 فٹ ہے۔ یہ مجسمہ عسائیت کا شہکار ہے جس کو بنانے میں نو سال کا عرصہ لگا۔1850 کی دہائی میں ونسنٹین پادری پیڈرو ماریا باس نے برازیل کی شہزادی ریجنٹ اور شہنشاہ پیڈرو دوم کی بیٹی اسابیل کے اعزاز میں ماؤنٹ کورکوواڈو پر ایک عیسائی یادگار رکھنے کا مشورہ دیا ، حالانکہ اس منصوبے کو کبھی منظوری نہیں دی گئی تھی۔ 


 1921 میں ریو ڈی جنیرو کے رومن کیتھولک آرک ڈیوسیس نے تجویز دی کہ مسیح کا مجسمہ 2،310 فٹ (704 میٹر) چوٹی پر بنایا جائے۔ اس کو بنانے کا آغاز 1922میں کیا گیا اور یہ 1931 میں مکمل ہوا۔یہ مجسمہ امن کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔اس پر اُس وقت دو لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر کا خرچ ہوا۔ دنیا دنیابھر سے لاکھوں سیاح ہر سال اسے دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

دنیا کے سات جدید عجوبے